• منصور آفاق

    موسموں کا رزق دونوں پر بہم نازل ہوا

    پھول اترا شاخ پر اور مجھ پہ غم نازل ہوا

    اپنے اپنے وقت پر دونوں ثمر آور ہوئے

    پیڑ کو ٹہنی ملی مجھ پر قلم نازل ہوا

     

     

  • منصور آفاق

     

    چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور

    میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے

     

  • منصور آفاق

    وہ ترا اونچی حویلی کے قفس میں رہنا

    یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں

    Demo

منصور کی نعت

Demo

>برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ

تفصیلات

در کوئی جنت ِ پندار کا وا کرتا ہوں

منصور کی نظم

Demo

منصور آفاق کی نظمیں

نسبت کا پیوند

World Prison

منصور آفاق

درود

Posted in عہد نامہ

درود

درود اس پر کہ جس نے سر بلندی خاک کو بخشی
تجلیٰ آدمی کی قریہ ءافلاک کو بخشی
درود اس پر کہ جو جمہوریت کا دین لایا تھا
جو لوگوں کی بھلائی کےلئے لوگوں میں آیا تھا
درود اس پر کہ جو جاگیرداری کا مخالف تھا
جہاں میں مال و زر کی شہر یاری کا مخالف تھا
درود اس پر کہ جس نے سود فرمایا بٹائی کو
کہا جائز فقظ اپنی ہی محنت کی کمائی کو
دروداس پر کہا جس نے کہ انساں سب برابر ہیں
زمیں پہ سب لکیریں کھینچنے والے ستم گر ہیں


دیوانِ منصور

Chart

  • 01 اکیسویں صدی کی غزل
  • 02 ظفراقبال کے بعد اہم ترین شاعر
  • 03 نئی غزل کی روایت
  • 04 شاعری کا آتش فشاں
  • 05 پچپن سو اشعار پر مشتمل دیوان