• منصور آفاق

    موسموں کا رزق دونوں پر بہم نازل ہوا

    پھول اترا شاخ پر اور مجھ پہ غم نازل ہوا

    اپنے اپنے وقت پر دونوں ثمر آور ہوئے

    پیڑ کو ٹہنی ملی مجھ پر قلم نازل ہوا

     

     

  • منصور آفاق

     

    چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور

    میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے

     

  • منصور آفاق

    وہ ترا اونچی حویلی کے قفس میں رہنا

    یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں

    Demo

منصور کی نعت

Demo

>برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ

تفصیلات

در کوئی جنت ِ پندار کا وا کرتا ہوں

منصور کی نظم

Demo

منصور آفاق کی نظمیں

نسبت کا پیوند

World Prison

منصور آفاق

World Prison

Posted in دھوپ کا خیمہ


World Prison

میرے جیل کے ساتھی ۔۔روز شکایت کرتے تھے
جیل کے کمرے تنگ بہت ہیں۔۔۔۔۔موت کے سائے سنگ بہت ہیں
بیرک بیرک بند ہے جیون صندوقوں میں۔۔۔۔سنگینوں کی آگ اگلتی بندوقوں میں
چند صحافی جیل میں آئے۔
اخباروں کی شہ سرخی میں ڈھل کر
کالی کالی کوٹھڑ یوں سے زخم نکل کر
جا پہنچے اونچے اونچے ایونوں تک
قوسِ قزح کے دالانوں تک
نازک ذہن حکومت کر نے والوں کے
لیوناڈو ڈونچی اورپکاسو کے شہ پاروں کو سوچنے والوں کے
تجریدی آرٹ کے مہ پاروں کو کھوجنے والوں کے
نرم ملائم آوازوں سے لطف اٹھانے والے ذہن
خواب گہوں میں آب رواں پردیپ جلانے والے ذہن
اور مسائل جیلوں کے
سوچتے تھے آبادی میں روز اضافہ ہو گا۔۔۔روز شکایت ہو گی
کب تک ہم تعمیر کریں گے جیل کے کمرے
اس عقدے کو سلجھانے میں ساری عقل لگا دی
کافی سوچ بچار کے بعد۔۔اپنے محلوں سے باہر کی دنیا جیل بنا دی

دیوانِ منصور

Chart

  • 01 اکیسویں صدی کی غزل
  • 02 ظفراقبال کے بعد اہم ترین شاعر
  • 03 نئی غزل کی روایت
  • 04 شاعری کا آتش فشاں
  • 05 پچپن سو اشعار پر مشتمل دیوان