• منصور آفاق

    موسموں کا رزق دونوں پر بہم نازل ہوا

    پھول اترا شاخ پر اور مجھ پہ غم نازل ہوا

    اپنے اپنے وقت پر دونوں ثمر آور ہوئے

    پیڑ کو ٹہنی ملی مجھ پر قلم نازل ہوا

     

     

  • منصور آفاق

     

    چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور

    میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے

     

  • منصور آفاق

    وہ ترا اونچی حویلی کے قفس میں رہنا

    یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں

    Demo

منصور کی نعت

Demo

>برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ

تفصیلات

در کوئی جنت ِ پندار کا وا کرتا ہوں

منصور کی نظم

Demo

منصور آفاق کی نظمیں

نسبت کا پیوند

World Prison

منصور آفاق

نسبت کا پیوند

Posted in دھوپ کا خیمہ


نسبت کا پیوند


ماں نے کہا
رک جاؤ بیٹے،رک جاؤ۔۔تم مر جاؤگے’’
اور سپاہی بیٹا ۔خستہ گھر کی ٹو ٹی دہلیز پہ رک کر
ماں کے پاؤں چھو کے بولا
ماں مت روک مجھے۔۔۔دیکھ پکارا ہے اس خاکِ وطن نے جو ہم سب کی دھر تی’’ ماں ہے
ماں!مت روک مجھے۔۔۔
میں زندہ رہوں گا ، زندہ ہے سقراط ابھی تک عیسیٰ دار پہ جی اٹھا تھا
ماں!شبیر نہیں مر سکتا ،سرمد اور منصور ابھی تک زندہ ہیں
‘‘پھر تیرا بیٹاکیسے مر سکتاہے
ماں نے بیٹے کے ماتھے کو چوما اور کہا
تاریخ کے سینے پر تم ،دستَ تحقیق نہ رکھو،میرے چاند!تمہارا علم ادھورا ہے ،تم مر’’ جاؤ گے
تم جیسے بے نام مجاہد مرتے آئے ہیں۔۔۔۔زندہ ہے سقراط اگر تو اس کے پس منظر میں۔۔
اس کا علم بھی ہے اور رتبہ بھی۔۔وہ استاد تھا اپنے وقت کے فاتح کا۔۔تجھ کو عیسیٰ یا د رہا ہے
لیکن اس کے پیچھے جو اعزازِنبوت ہے وہ بھول گئے ہو۔۔۔۔۔سرمد اور منصور تو وقت کے
ایسے حاکم تھے۔۔۔۔۔ علم رعایا تھا جن کی۔۔۔۔شبیر نواسہ تھا سرکاردوعالم کا
اور تم صرف مرے بیٹے ہو
نسبت کا پیوند کہا ں سے لاؤ گے
‘‘تم مر جاؤ گے

دیوانِ منصور

Chart

  • 01 اکیسویں صدی کی غزل
  • 02 ظفراقبال کے بعد اہم ترین شاعر
  • 03 نئی غزل کی روایت
  • 04 شاعری کا آتش فشاں
  • 05 پچپن سو اشعار پر مشتمل دیوان