• منصور آفاق

    موسموں کا رزق دونوں پر بہم نازل ہوا

    پھول اترا شاخ پر اور مجھ پہ غم نازل ہوا

    اپنے اپنے وقت پر دونوں ثمر آور ہوئے

    پیڑ کو ٹہنی ملی مجھ پر قلم نازل ہوا

     

     

  • منصور آفاق

     

    چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور

    میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے

     

  • منصور آفاق

    وہ ترا اونچی حویلی کے قفس میں رہنا

    یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں

    Demo

منصور کی نعت

Demo

>برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ

تفصیلات

در کوئی جنت ِ پندار کا وا کرتا ہوں

منصور کی نظم

Demo

منصور آفاق کی نظمیں

نسبت کا پیوند

World Prison

منصور آفاق

سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس

Posted in دیوان منصور

سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس

پائوں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس

 

ایک پتھر ہے کہ بس سرخ ہوا جاتا ہے

کوئی پہروں سے کھڑا ہے کسی دیوار کے پاس

 

گھنٹیاں شور مچاتی ہیں مرے کانوں میں

فون مردہ ہے مگر بسترِبیدار کے پاس

 

کس طرح برف بھری رات گزاری ہوگی

میں بھی موجود نہ تھا جسمِ طرح دار کے پاس

 

عبرت آموز ہے دربارِ شب و روز کا تاج

طشتِ تاریخ میں سر رکھے ہیں دستارکے پاس

 

چشمِ لالہ پہ سیہ پٹیاں باندھیں منصور

سولیاں گاڑنے والے گل و گلزار کے پاس

 

دیوانِ منصور

Chart

  • 01 اکیسویں صدی کی غزل
  • 02 ظفراقبال کے بعد اہم ترین شاعر
  • 03 نئی غزل کی روایت
  • 04 شاعری کا آتش فشاں
  • 05 پچپن سو اشعار پر مشتمل دیوان