• منصور آفاق

    موسموں کا رزق دونوں پر بہم نازل ہوا

    پھول اترا شاخ پر اور مجھ پہ غم نازل ہوا

    اپنے اپنے وقت پر دونوں ثمر آور ہوئے

    پیڑ کو ٹہنی ملی مجھ پر قلم نازل ہوا

     

     

  • منصور آفاق

     

    چاند کے حسن پہ ہر شخص کا حق ہے منصور

    میں اسے کیسے کہوں رات کو نکلا نہ کرے

     

  • منصور آفاق

    وہ ترا اونچی حویلی کے قفس میں رہنا

    یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں

    Demo

منصور کی نعت

Demo

>برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ

تفصیلات

در کوئی جنت ِ پندار کا وا کرتا ہوں

منصور کی نظم

Demo

منصور آفاق کی نظمیں

نسبت کا پیوند

World Prison

منصور آفاق

در کوئی جنت ِ پندار کا وا کرتا ہوں

Posted in دیوان منصور

در کوئی جنت ِ پندار کا وا کرتا ہوں

آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں

 

رات اور دن کے کناروں کے تعلق کی قسم

وقت ملتے ہیں تو ملنے کی دعا کرتا ہوں

 

وہ ترا ، اونچی حویلی کے قفس میں رہنا

یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں

 

ایک لڑکی کے تعاقب میں کئی برسوں سے

نت نئی ذات کے ہوٹل میں رہا کرتاہوں

 

پوچھتا رہتا ہوں موجوں سے گہر کی خبریں

اشکِ گم گشتہ کا دریا سے پتہ کرتا ہوں

 

مجھ سے منصور کسی نے تو یہ پوچھا ہوتا

ننگے پائوں میں ترے شہر میں کیا کرتا ہوں

دیوانِ منصور

Chart

  • 01 اکیسویں صدی کی غزل
  • 02 ظفراقبال کے بعد اہم ترین شاعر
  • 03 نئی غزل کی روایت
  • 04 شاعری کا آتش فشاں
  • 05 پچپن سو اشعار پر مشتمل دیوان