رسپانس

Posted in دھوپ کا خیمہ

رسپانس


تمہیں اپنے ہاتھوں کو
آرے سے کیوں کاٹنا پڑ گیا ہے
تمہیں اپنے پائوں سے بھاری چٹانوں کو
کیوں باندھنا پڑ گیا ہے
کہو نور سے تیز رفتار
اڑتے پرندوں پہ بیٹھے ہوئے خاک رو۔۔کچھ کہو
کچھ کہو کمپیوٹر کی بڑھتی ہوئی
دسترس کے جہاں ساز ماحول نے
کس بلندی سے تجھ نوازا کہو۔
سوچنے پر میسر جہاں چیز ہو جاتی تھی۔۔
۔وہ بہشتِ حسیں
جس کا وعدہ تھا
وہ سر خوشی خاک پر تم کو دے دی گئی
اپنے ہاتھوں سے نرماہٹوں کو چھوئو،
اپنے کانوں کو رس گھولتی روشنی بخش دو
اپنی آنکھوں میں پھیلا دو بس حسن کو
اپنے پائوں کو قالین کی نرم آغوش میں لمس کی راستے پہ روانہ کرو۔
دوستی ۔۔۔رس بھری زندگانی سے بس دوستی۔۔