تلور کے نام ایک نظم

Posted in دھوپ کا خیمہ

تلور کے نام ایک نظم


باد لوں کے دامنوں میں
اشک تک باقی نہ تھا
ڈوبتی تھیں ریت کے ذروں کی پیاسی دھڑ کنیں
تھل کے ہونٹوںپر سمٹ آئی تھیں
جاں کی حسیات
اور کوئی خشک ’ٹوبھا‘اپنی تہہ میں جھانک کر
سوچتا تھا
چاند اب اس میں اتر سکتا نہیں
اتنا غمگین دیکھ کر اس ریت کے تالاب کو
اک پرندہ رو پڑا
اور’تھل مارو‘ کے ٹو بھے
پا نیوں سے بھر گئے



(تلور ۔۔ ایک پرندہ جس کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ وہ خشک سالی کے موسم میں فریاد کرتا ہے اور بارش ہونے لگتی ہے