تخلیقی عمل

Posted in دھوپ کا خیمہ

تخلیقی عمل


سات دسمبر کی شب تھی
رات کے بارہ بجتے تھے
چاند نگر سٹیشن تھا
گائوںکوئی دو کوس پرے تھا
ہم دونوںپیدل تھے
اس کے جسم پر ہلکے رنگ کی تنگ سی’ کرتی‘ تھی
چھن چھن کر جس سے آتی تھی باہرآگ دہکتے جوبن کی
پائوں میں گہرے نیلے سینڈل تھے
لمس جگانے والے پیر دکھائی دیتے تھے
نیلی اور سفید لکیروں والے گرم سوئیٹرسے بھاپ بدن کی اُٹھتی تھی
اور مجھے درکار تھا کوئی گرم لباس
ایسے میں تخلیق ہوا تھا پہلا سچا...