تعبیر کی تلاش میں

Posted in دھوپ کا خیمہ

تعبیر کی تلاش میں


عشق آباد کے کوہساروں میںچاند نگر کی وادی تھی
شہزادی کا راج محل تھا خواب گلی کے نکڑ پر
آویزاں تھے دیواروں پرنقشِ محبت صدیوں کے
کچھ کچھ شام کی مخمل مخمل نرم شعاعیں باقی تھیں
ایک کھلی کھڑکی سے اس کا کومل کومل نصف بدن
جھانک رہا تھا باہر اپنی شوخ قیامت خیزی سے
کتنے برسوں سے یہ خواب یہیں رک جاتا ہے
کھل جاتی ہیںاپنی آنکھیںاس تاریک زما نے میں
لگتا ہے موجود ہے کوئی خوابوں کے ویرانے میں