معجزہء جنس

Posted in دھوپ کا خیمہ

معجزہء جنس

جب سراندیپ کے جزیرے پر۔۔جسم آدم میں لمسِ حوا کے
خواب ہیجان بن کے لہرائے
کوہ جودی پہ جسم ِحوامیں۔۔جانے کس پُر جمال جذبے نے
کوئی مثبت سی آ نچ سلگا ئی۔۔وصل کی بے پناہ کشش جاگی
سارے عالم میں جسم کی خوشبو،بے کراں تیزیوں سے ہم آغوش
ایسے پھیلی کہ پھیلتی ہی گئی
اپنی خوشبو کے ہی تعاقب میںایک دوجے کی سمت بڑھتے گئے
اور کتنے ہزار کوسوں کی
وہ مسافت کی دوریاں گھٹ کر
چند لمحوں کے راہ میں بدلیں
یعنی اعجازِجنس  کے صدقے
زندگانی وجود میں آئی
اور خدائی شہود میں آئی