پنجوں کے بل چلنے کی اذیت

Posted in دھوپ کا خیمہ


پنجوں کے بل چلنے کی اذیت


وہ اسی میز پہ بیٹھے اسی طر ح۔۔بہت رات گئے
سامنے ان کے و ہی دودھ کو ڈستا ہوا قہوہ بھی ہے
مسئلے بھی وہی۔۔معروضی حقائق سے گریز۔۔۔
بھاپ اُٹھتی ہوئی چینک سے۔۔سگاروں سے نکلتے ہوئے مر غولوں میں۔۔
خا رجیت کی کوئی سرخ لکیر
میز پر گھومتے کچھ دائرے چینی کو ملانے والے
بحث کرتے ہو ئے تجریدی قلم کاری پر
چائے کے بجتے ہو ئے گر م پیالے گم سم۔۔
جن سے اُٹھتی ہوئی بھاپوں میں مرے پانچ برس
جانے کس طرح ہوا گئے معلوم نہیں
میں نہیں ۔۔آج نہیں ہوں ان میں۔۔اب تاسف سا بھی کیا ہونا ہے
ہونے اور نہ ہونے کا مجھے۔۔ان کو بے انت خو شی میرے نہ ہونے پہ تو ہے
ان کے چہرے تو گلابوں کی طر ح تازہ ہیں
آج کا دن بھی ’’بڑادن‘ ‘ہے کوئی،ان کیلئے یومِ مسرت ہے کو ئی
سوچتا ہوں کہ کوئی پانچ۔۔ان کی صحبت میں رہا ہوں میں بھی
میری قامت میں کوئی فرق تو آیا ہو گا۔۔میں ہمالیہ تھا
مگر جھک کے سکیسر کی طرح۔۔جب بھی ملتا تھا وہ مغرور ہوا کر تے تھے
اپنے پنجوں پہ کھڑا ہو کے میرا ساتھ دیا کر تے تھے
اپنی ایڑھی کو ہمہ اٹھا کر چلنا
کتنا بے رحم علم ہے،مجھے علم نہ تھا