صبر کے غیر فا نی لمحے

Posted in دھوپ کا خیمہ

صبر کے غیر فا نی لمحے

سردیوں کی ایک گہری کا لی ٹھنڈی اوربھیگی رات تھی
میری اور لیلیٰ کی منزل’’چاپری کے آخری کہسار پر
اپنے اک پختون ساتھی کی حویلی کی تھی
نیلی خواب گاہ
جیپ بل کھاتی ہوئی کچی سڑک پر چل رہی تھی شام سے
اور گہرے جمپ اس کو
میرے اوپر ڈھیر کرتے جا رہے تھے
ایک حد تک اس میں شامل تھے
خود اسکی اپنی جنسی خواہشو ں کے ولوولے
لمس کی حدت سے تپتی جا رہی تھیں
میری بھی شا دابیاں
یعنی پتھر کا بدن اب موم ہو تا جا رہا تھا
اور ابھی باقی تھا چودہ میل کا پر پیچ لمبا راستہ
وقت سے پہلے سفرآغازکرنے سے بسا اوقا ت
موسمی حالات منزل چھین لیتے ہیں