لمحہء وصال کھوجتی لکیر

Posted in دھوپ کا خیمہ


لمحہء وصال کھوجتی لکیر


نیم تاریک گلی،رات کی پچھلی سانسیں
مرے قدموں سے نکلتے ہوئے سائے
ایک دروازے سے بہتی ہوئی روشن سی لکیر
میری بہکی ہوئی نظروں کی توجہ کے لئے
اپنی قامت میں بہت ردوبدل کرتی رہی
میں مگر ذات کے صحرا کہیں کھویا ہوا
خواب بنتی ہوئی یخ بستہ ہوا میں گم تھا
مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ اجالے کی لکیر
اک سلگتے ہوئے جذبے کی خبر دیتی ہے