ٹوٹا ہوا افق

Posted in دھوپ کا خیمہ


ٹوٹا ہوا افق


میانوالی بھی اپنی رُت بدلتا ہے مگر
مرے دل کی زمینوں پر
وہی موسم خزاں کا
وہی بے شکل چہرپ آسماں کا
وہی بے آب دریا داستاں کا
وہی بے روح منظر ہیں
وہی بے رنگ تصویریں
وہی چشمے۔۔وہی ابلا ہوا پانی
درختوں سے
مسلسل بھاپ بن کر اٹھ رہا ہے
پگھلتی جا رہی ہیں میری راتیں
سوا نیزے پہ سورج ہے مگر شب کی سیاہی اڑرہی ہے میری مٹی میں
مرے اندر کی فصیلیں تیرگی کی دھوپ میں مرجھا گئی ہیں
مجھے کوئی شکستِ ذات کی علت بتا دے