تہذیب کی دیوار

Posted in دھوپ کا خیمہ


تہذیب کی دیوار


سن اٹھاسی جنوری اور برف باری کا سماں
تھا مری کے جسم سے لپٹا ہوا لٹھے کا تھان
بس ابھی سورج برہنہ ہو رہا تھا شہر میں
کچھ بھٹکتے پھر رہے تھے آنچلوں کے ابرباد
مادہ السیشن کے ہمراہ گنگناتا اک جواں
دیکھتا جا تا تھا اڑتے بادلوں کے سات رنگ
اوراعلیٰ نسل کے کتے کی ڈوری تھام کر
ایک لڑکی چل رہی تھی مال کے فٹ پاتھ پر
پھر اچانک کھل گئیں دونوں کی ڈھیلی ڈوریاں
وصل کی لذت میں گم ہوتے گئے پوری طرح
گھور کر ہی رہ گئے تہذیب کی دیوار کو
بے پناہ شاداب لڑکی اور دھکتا جواں