World Prison

Posted in دھوپ کا خیمہ


World Prison

میرے جیل کے ساتھی ۔۔روز شکایت کرتے تھے
جیل کے کمرے تنگ بہت ہیں۔۔۔۔۔موت کے سائے سنگ بہت ہیں
بیرک بیرک بند ہے جیون صندوقوں میں۔۔۔۔سنگینوں کی آگ اگلتی بندوقوں میں
چند صحافی جیل میں آئے۔
اخباروں کی شہ سرخی میں ڈھل کر
کالی کالی کوٹھڑ یوں سے زخم نکل کر
جا پہنچے اونچے اونچے ایونوں تک
قوسِ قزح کے دالانوں تک
نازک ذہن حکومت کر نے والوں کے
لیوناڈو ڈونچی اورپکاسو کے شہ پاروں کو سوچنے والوں کے
تجریدی آرٹ کے مہ پاروں کو کھوجنے والوں کے
نرم ملائم آوازوں سے لطف اٹھانے والے ذہن
خواب گہوں میں آب رواں پردیپ جلانے والے ذہن
اور مسائل جیلوں کے
سوچتے تھے آبادی میں روز اضافہ ہو گا۔۔۔روز شکایت ہو گی
کب تک ہم تعمیر کریں گے جیل کے کمرے
اس عقدے کو سلجھانے میں ساری عقل لگا دی
کافی سوچ بچار کے بعد۔۔اپنے محلوں سے باہر کی دنیا جیل بنا دی