یقین کی غیر فانی ساعت

Posted in دھوپ کا خیمہ

یقین کی غیر فانی ساعت


شام کے آدھے بدن پر تھے شفق کے کچھ گراف
دن چرانے پر تلا تھا رات کا تیرہ لحاف
اور آنگن میں مرا ننھا سا صاحب
بھا گتا پھرتا تھا جانے کیا پکڑنے کے لئے
اپنی مٹھی کھول کرپھر بند کر لیتا تھا وہ
‘‘میں نے پوچھا ’’کیا پکڑتے پھر رہے ہو ۔۔صحن میں
بولا کرنوں کو پکڑتا ہوں
ابھی کچھ دیر میں سورج مرا’’
سو جائے گا
‘‘بستر میں جا کے رات کے

۔صاحبِ منصور کے نام