قضا نہیں ہونا تجھے

Posted in دھوپ کا خیمہ


قضا نہیں ہونا تجھے


لوح کا راستہ،دھوپ کے شامیا نوں سے ڈھا نپا ہوا
اجنبی اجنبی چاپ سنتا رہا۔۔ساتھ چلتا رہا
اور پھر ایک دن۔۔۔۔دس محرم کی آنکھوں سے نکلا ہوا
اک سنہری کنول
یوں اچھالا افق کی شفق جھیل میں۔۔
شام کے وقت نے
جیسے سکہ کوئی بادشاہ پھینکتا ہے
رحمِ تاریخ کے سرخ کشکول میں
آسماں رک گیا۔۔۔رک گیا آسماں
سو گیااجتماعی لحد میں کہیں زندگی کا دمشق
میں نے سوچا کہ ایسے میں بہتا نہیں اشکِ آب فرات
راستہ روک۔۔۔پہلے پڑاؤ کے خیمے لگا
اور پھر شام کی بازگشتوں میں بہتی اذاں
مجھ سے کہنے لگی
وقت کو ضائع کرنا گناہِ کبیرہ سے بھی بڑھ کر ہے
قبلہ رُو ہو کے’’ لبیک ‘‘میں نے کہا
کوئی شہ رگ کے اندر سے کہنے لگا
کہ نمازیں قضا لوٹ سکتی ہیں لیکن قضا ساعتیں لوٹ سکتی نہیں