نسبت کا پیوند

Posted in دھوپ کا خیمہ


نسبت کا پیوند


ماں نے کہا
رک جاؤ بیٹے،رک جاؤ۔۔تم مر جاؤگے’’
اور سپاہی بیٹا ۔خستہ گھر کی ٹو ٹی دہلیز پہ رک کر
ماں کے پاؤں چھو کے بولا
ماں مت روک مجھے۔۔۔دیکھ پکارا ہے اس خاکِ وطن نے جو ہم سب کی دھر تی’’ ماں ہے
ماں!مت روک مجھے۔۔۔
میں زندہ رہوں گا ، زندہ ہے سقراط ابھی تک عیسیٰ دار پہ جی اٹھا تھا
ماں!شبیر نہیں مر سکتا ،سرمد اور منصور ابھی تک زندہ ہیں
‘‘پھر تیرا بیٹاکیسے مر سکتاہے
ماں نے بیٹے کے ماتھے کو چوما اور کہا
تاریخ کے سینے پر تم ،دستَ تحقیق نہ رکھو،میرے چاند!تمہارا علم ادھورا ہے ،تم مر’’ جاؤ گے
تم جیسے بے نام مجاہد مرتے آئے ہیں۔۔۔۔زندہ ہے سقراط اگر تو اس کے پس منظر میں۔۔
اس کا علم بھی ہے اور رتبہ بھی۔۔وہ استاد تھا اپنے وقت کے فاتح کا۔۔تجھ کو عیسیٰ یا د رہا ہے
لیکن اس کے پیچھے جو اعزازِنبوت ہے وہ بھول گئے ہو۔۔۔۔۔سرمد اور منصور تو وقت کے
ایسے حاکم تھے۔۔۔۔۔ علم رعایا تھا جن کی۔۔۔۔شبیر نواسہ تھا سرکاردوعالم کا
اور تم صرف مرے بیٹے ہو
نسبت کا پیوند کہا ں سے لاؤ گے
‘‘تم مر جاؤ گے