جب مجھے حسنِ التماس ملا

Posted in آفاق نما

جب مجھے حسنِ التماس ملا
تیرا فیضان بے قیاس ملا

تیری رحمت تڑپ تڑپ اٹھی
جب کہیں کوئی بھی اداس ملا

جب بھی کعبہ ڈھونڈنا چاہا
تیرے قدموں کے آس پاس ملا

تیری توصیف رب پہ چھوڑی ہے
بس وہی مرتبہ شناس ملا

یوں بدن میں سلام لہرایا
جیسے کوثر کا اک گلاس ملا

تجھ سے وہ صبح جاوداں آئی
مجھ کو بھی نور کا لباس ملا