مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے

Posted in آفاق نما

مجھے کیا اعتماد الفاظ کی جادو گری پر ہے
تری توصیف اک احسان مری شاعری پر ہے

ترے دربار سے کچھ مانگنا گر کفر ٹھہرا ہے
تو میں کافر ہوں مجھ کو ناز اپنی کافری پر ہے

تری رفعت تفکر کی حدودِ فہم سے بالا
ترا عرفان طنزِ مستقل دانشوری پر ہے

سراپا ناز ہو کر بھی نیازِ عشق کے سجدے
 خدا کو فخر بس تیرے خلوصِ دلبری پر ہے

صلائے عام ہے وہ نبضِ ہستی تھام لے آکر
جو کوئی معترض آقا تری چارہ گری پر ہے

مجھے تسخیرِ یزداں کا عمل معلوم ہے منصور
کرم خاکِ مدنیہ کا مری دیدہ وری پر ہے