سویرا

Posted in آفاق نما

سویرا


چاند اُلجھا ہے کھجوروں کی گھنی شاخوں میں
چاندنی جھولتے سایوں میں بھٹک جاتی ہے

جیسے بلور کی ٹوٹی ہوئی رنگیں چوڑی!
گیسوئے یار کے پیچوں میں اٹک جاتی ہے


رات ڈھلکائے ستارں سے مُرصع آنچل
کھولے بیٹھی ہے جنوں بخش سی شہلا آنکھیں

اور ہر سانس سے انسان کو صدا دیتی ہے
آ میری گود میں آ نیند سے بہلا آنکھیں


ہو چکی ختم وہ تقریبِ حیا سوزِعکاظ
سوچکے جام بجھے آتشِ سیال کے خم

رقص ابلیس کا نا پاک تسلسل ٹوٹا
ارضِ کعبہ ہے مگر ایک عجب سوچ میں گم


میری تقدیس کی تاریخ کہاں کھو گئی
میری تقدیر میں صدیوں سے ہیں شیطان کے جلوس

میری آغوش ہے ملعون بتوں سے بوجھل!
ربِ کعبہ کبھی تو نے بھی کیا ہے محسوس


اور اسی وقت ادھر غارِحرا میں کوئی
ہے اسی فکر میں انسان کو ملے کیسے نجات

جس کی قسمت میں ادھر قیصر و کسر یٰ کا عذاب
اپنے ہاتھوں سے تراشے ہیں اِدھر لات و منات


جب بھی بجتی ہے کوئی درد کی زنجیر کہیں
دلِ احمد میں بھی طوفان دھڑک اُٹھتے ہیں

زندہ درگور جو ہو جاتی ہے کوئی بچی!
اسکے ہر انگ میں شعلے سے بھڑک اٹھتے ہیں


پھر محمدؐ کے خدا نے کوئی تاخیر نہ کی
سو گئی رات شفق تاب سویرے آئے

پھر بہاروں کی جبیں آ کے زمیں بوس ہوئی
صحنِ کعبہ میں وہ زلفوں کو بکھیرے آئے