ضمیرِ زمیں سے شعورِ سما تک محمد محمد محمد محمد

Posted in آفاق نما


ضمیرِ زمیں سے شعورِ سما تک محمد محمد محمد محمد
دل آدمی سے دماغِ خدا تک محمد محمد محمد محمد

جمودِ عدم سے نمودِ مکاں تک، سکوتِ ازل سے خرام جہاں تک
دیارِ فنا سے طلسم ِبقا تک محمد محمد محمد محمد

درختوں کے پتوںکی حمد ونثامیں بہاروں کی پاکیزہ قوسِ قزح میں
چنبیلی کے پھولوں سے بادصبا تک محمد محمد محمد محمد

اے دنیا اے اعجازِ کن کی نمائش،ذرا تُو بھی صلِ علیٰ آج کہہ دے
تری ابتداءسے تری انتہا تک محمد محمد محمد محمد

خدا کے لبوں پر وہی ذکرِ اقدس ،وہ اسم گرامی ہے عرشِ علا پر
فضا سے خلا تک ، خلا سے ملا تک محمد محمد محمد محمد