مساواتِ محمدی

Posted in آفاق نما


مساواتِ محمدی

رات سانسوں کی مشقت کو مکمل کر کے
بن گئی ایک ضیاء بخش سویرے کی رسول

یوں اندھیرے کی رداؤں پر اجالے بکھرے
بے بصر آنکھ پہ جس طرح بصارت کانزول



مہرِانوارفشاں حجرۂاقدس سے ہوا
کہکشاؤں نے وہیں جھک کے قدم چوم لئے

صحنِ مسجد کے ہر اک ذرہ میں دھڑکی جنت
اور صبا جھوم اُٹھی زلف کے خم چوم لئے



شدتِ عشق سے بیتاب رفیقوں نے ادھر
حسن ترتیبِ سے مٹی کو کیا تخت نما

چہرۂ ناز پہ نفرت کا تاثر ابھرا
اور احباب سے پوچھا یہ بھلا چیز ہے کیا



کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے الجھ کر نکلی!
حدتِ کرب سے اصحاب کی مغموم صدا

روز آتے ہیں یہاں قیصروکسریٰ کے وفود
آپ سلطان جو ہیں سارے عرب کے آقاؐ



فقر ہی فخر سہی آپ کا بے شک لیکن
وفد خلجا ن میں اکثر پڑھاتے ہیں مولا

ہم نے سوچا ہے ذرا فرقِ مراتب ہوتا
کچھ تو پہچان بھی ہو کون ہے برتر اعلیٰ



اپنی ٹھوکر سے گراتے ہو ئے وہ فرشِ بلند
اس غریبوں کے پئمبر نے یہی فرمایا

تم مساوات کو پاما ل کئے بیٹھے ہو
میں تو تفریقِ من و تو کو مٹانے آیا



یہ مری خاک کی کرسی ہی تو بن جائے گی
آنے والوں کے لئے تختِ حکومت کا جواز

کون الجھے گا یزیدوں کے گریبانوں سے
سو گئے گر میرے شبیر سے تاریخ نواز