مصحفِ غم کی تلاوت روز و شب کرتے رہو

Posted in آفاق نما

 

مصحفِ غم کی تلاوت روز و شب کرتے رہو
اس کے دروازے کھلے ہیں تم طلب کرتے رہو


عزم زندہ ہو تو ساری بیڑیاں کٹ جائیں گی
کوششیں اپنی بصد رنج و تعب کرتے رہو


شاملِ توفیق ان کی رحمتیں ہو جائیں گی
جو بھی ممکن ہے میرے  یارو وہ سب کرتے رہو


زندگی ممنون ہے جس ذات کی وہ نام لو
میرےدل کے بھی دھڑکنے کا سبب کرتے رہو


نام ہو ان کا تو مایوسی سراسر کفر ہے
اپنی بخشش کی دعاساغر بہ لب کرتے رہو


اک ذرا بس ان کا ذکرِ خیر پہلے دوستو
جو بھی کرتے جا رہے تھے کام ، اب کرتے رہو