لرز لرز کے میں نے کہا یا رسول اللہ

Posted in آفاق نما

 

لرز لرز کے میں نے کہا یا رسول اللہ

 


وہ روز روز کے فاقوں سے مرنے والا تھا
کہ آٹھ پہر سے روٹی نہ مل سکی تھی کہیں


ہمارے شہر میں مفلس نے خود کشی کر لی
یہ آرہی تھیں صدائیں کہ بجلیاں کڑکیں


لرز لرز کے میں نے کہا یا رسول اللہ
غمِ حیات آپ سے چھپاؤں کیونکر


کبھی کی زخم دریدہ سے پیپ بہتی ہے
کبھی کے جسم پھپھولوں سے اٹ گئے اپنے


شکستہ حال سی ہستی سسکتی رہتی ہے
لرز لرز کے میں نے کہا یا رسول اللہ



وہ اک یتیم کی ظلمت نصیب ہچکی پر
سیاہ رات بھی کاجل بکھیرتی آئی


کہاں ہے جاگتا احساس شہر پتھر ہے
نہ کوئی اشک نہ ہونٹوں پہ اب ہنسی آئی


لرز لرز کے میں نے کہا یا رسول اللہ
ترا تھا حکم پسینہ نہ خشک ہو جائے


اور اس سے پیشتر اجرت کو ادا ان کی
کیا ہے خشک اجیروں نے خون بھی آقا


ملا نہ پھر بھی مشقت کا کچھ صلا ان کو
لرز لرز کے میں نے کہا یا رسول اللہ