گلشن کو ہے نکھار محمد کے نام پر

Posted in آفاق نما


گلشن کو ہے نکھار محمد کے نام پر
ہے بوسہ زن بہار محمد کے نام پر



لمحے اسی کے ذکر کی اطہر امانتیں
یہ روز وشب نثار محمد کے نام پر



عہد ، خزاں کے درد کا اب تذکرہ فضول
ہر رت ہے ساز گار محمد کے نام پر



ہر آنکھ میں سکوں کے شبستاں لئے ہوئے
ہر دل کو ہے قرارمحمد کے نام پر



بے عیب شاہکار ہے ربِ جلیل کا
نقطہ بھی ناگوار محمد کے نام پر



ذرے بھی مہر و ماہ میں ڈھلتے چلے گئے
ہے خاک ذی وقار محمد کے نام پر