اے با انواز خویش سر مستے

Posted in آفاق نما

 

اے با انواز خویش سر مستے
آدمی ہو گئے ہیں کیوں سستے



آپ کے  در پہ ختم ہوتے ہیں
آزمائے ہیں میں نے سب رستے



گر کبھی روٹھتے بہاروں سے
زرد پتوں پہ لوگ کیوں ہنستے



سنگ پڑتے نہ خوش دماغوں پر
کاش ان کی گلی میں جا بستے



میں نے دیکھا ہے دار کومنصور
عشق پراں بود بیک جستے