زاہدِتنگ نظر اپنی عبادت بھی لا

Posted in آفاق نما

 

زاہدِتنگ نظر اپنی عبادت بھی لا



زاہدِتنگ نظر اپنی عبادت بھی لا
آج نعتوں کو میں معیا ربنا لایا ہوں



ّآج لفظوں سے مری ذات درخشاں ہو گی
میں نے تو نعت پہ رکھی ہے عباست کی ساس



آج ہونٹوں پہ مرے نعت فروزاں ہوگی
آج بڑھ جائے گی کچھ اور دلِ زار کی پیاس



شہرِطیبہ کی صبا آج خراماں ہو گی
حسنِ توصیف کو پہنایا ہے حرفوں کا لباس



اپنے اعمال بھی لا اپنی ریاضات بھی لا
میں بھی خاکِ درِ سرکار اٹھا لایاہوں



تو نے بے روح نمازوں کو ہی منزل جانا
میں نے بس عشق کو معراجِ عبادت سمجھا



تو نے کعبہ کو ہے اس زیست کا حاصل جانا
میں نے طیبہ کو ہی بس اصل حقیقت سمجھا



تو نے مر مر کی مساجد کو ہے محمل جانا
میں نے لیلیٰ کی محبت کو صداقت سمجھا



اپنے سجدوں کے وہ موہوم کمالات بھی لا
میں تو افکار کے انوار جگا لایا ہوں



تو نے قرآں کے حقائق پہ کبھی غور کیا
اس کا ہر لفظ اسی کی ذات کی توصیف میں ہے



اس نے توقیرِ محمد کاسداا درس دیا
اس کی عظمت بھی اسی نام کی تعریف میں ہے



عَبدہٗ اس نے کہا ،نام محبت سے لیا
بس یہ اعجاز خداوند کی تصنیف میں ہے



تو ذرا اپنی پرستش کی کرامات بھی لا
میں توکچھ نعت کے اشعار سجا لا یا ہوں