اس مسافت پر طبیعت شوق سے مائل رہی

Posted in آفاق نما

 

اس مسافت پر طبیعت شوق سے مائل رہی
ہر قدم پر کوچۂ جاناں میں گو مشکل رہی



رات بھر گنتا رہا ضرب مسلسل کی صدا
دل کی دھڑکن میں تمہاری یاد بھی شامل رہی



شہسوارِ علم و دانش راستے میں کھو گئے
عشق کے پائے طلب کی منظر منزل رہی



زندگی تھی درد کی دہلیز تم سے پیشتر
چارہ گر آتے رہے بے چا رگی بسمل رہی



ہائے وہ عہدِ ستم وہ قیصریت کا فسوں
وہ مسلسل جبر جس میں سوچ بھی گھا ئل رہی