یہ دو رنگی عجیب ہے کتنی

Posted in آفاق نما

 

یہ دو رنگی عجیب ہے کتنی
میرے آقا مہیب ہے کتنی





بس دوائی کی بوند مل جائے
اک ضعیفہ ادھر سسکتی ہے
اس طرف چند شیش محلوں میں
رقص جا ری ہے مے چھلکتی ہے



روکھی روٹی کو بھی ترستا ہے
بھوکا بچہ نحیف و لا غر ہے
زر کے آنگن میں چاندنی سی ہے
بہکے ہا تھوں میں ایک ساغر ہے



یہ دو رنگی حساب منظر ہے
میرے آقا ؐ عذاب منظر ہے



اس کی بیٹی جوان ہے لیکن
صرف لڑکی کو کیا کرے کوئی
جب نہیں ہے جہیزتو کیا ہے
مثلِ یوسف ہوا کرے کوئی



تم نے چکی جہیز میں دی تھی
عہد میرا فلور مل مانگے
تم نے برتن دئیے تھے پانی کے
یہ فرج اور زر کی سل مانگے



یہ دو رنگی ہے کربِ جا ں مولاؐ
آپؐ سن لیں میری فغاں مولاؐ



راکھ زخموں پہ کیوں بکھیری ہے
زہر شعلے کچھ اور بھر دیتے
ایک ظالم سے جب کہا میں نے
اور روشن چرا غ کر دیتے



مجھ سے بولا تمہا ری قسمت میں
مفلسی کا عذاب لکھا ہے
اپنے خالق سے جا سوال کرو
جس نے زر کا نصاب لکھا ہے



یہ دو رنگی تو ناس کرتی ہے
میرے آقاؐ اداس کرتی ہے




ایک فاقہ نصیب دو شیزہ
اپنی عصمت کے دام لیتی ہے
منحرف ہو کے تیرے واعظ سے
وہ عقیدوں کو بیچ دیتی ہے



ان کی لا شوں پہ اک طرف آقا ؐ
اونچے ایوان سجا ئے جا تے ہیں
جسم سورج سے رقص کرتے ہیں
چاند قدموں میں پائے جاتے ہیں



یہ دو رنگی عظیم سازش ہے
میرے آقاؐ قدیم سازش ہے



تم مساوات کے پیئمبر ہو
تم تفاو ت مٹانے آئے ہو
اور تقسیم رزق کا مولا ؐ !
ایک دلکش نظام لائے ہو



واعظوں کا مگر لبِ اظہار
ساری تعلیم مسخ کرتا ہے
روزوشب یہ فرازِ منبر سے
حق میں باطل کا رنگ بھرتا ہے



یہ دو رنگی ادا ئے شیطاں ہے
میرے آقاؐ قبائے شیطاں ہے