آیا ہے انقلاب یہ ان کے درود سے

Posted in آفاق نما

 

آیا ہے انقلاب یہ ان کے درود سے
چھوٹی ہے کا ئنات رسوم و قیود سے



تم نے کیا ہے خلق کو آقاؐ خداشنا س
واقف نہیں تھا کوئی خدا کے وجود سے



وہ لوگ جن کی زیست کا عنواں ہے تیرا نام
ان کو غرض ہے کیا بھلا نام و نمود سے



شیخِ حرم فروش نے آقاؐ کے نام کو
آلودہ آج کر دیا اپنے درود سے



خوشبو سے کس کی آج معطر ہیں جسم و جاں
مستی جھلک رہی ہے رکوع و سجود سے



مصلوب ہو کے عظمتِ آفاق بن گیا
منصور آشنا نہ تھا اپنی حدود سے