وہ تیری چشمِ ناز ہے قبلہ کہیں جسے

Posted in آفاق نما

 

وہ تیری چشمِ ناز ہے قبلہ کہیں جسے
سوچوں کی تیرگی میں اجالا کہیں جسے



منسوب تیری ذات مقدس سے گر نہ ہو
یہ پتھر کا اک مکان ہے کعبہ کہیں جسے



شیخِ حرم کو آج تک آیا نہیں خیال
طیبہ کی اک گلی ہے وہ عقبیٰ کہیں جسے



اک تیرا نام ہے کہ مدینہ صبا کا ہے
شہرِ بہار دل کا دریچہ کہیں جسے



ہے مظہرِ جمالِ خدا پر تو صفات
وہ آئینہ کہ تیرا سراپا کہیں جسے