میلا دالنبی ﷺ

Posted in آفاق نما

 

میلا دالنبی ﷺ



دیوارِ حرم کی چھا تی سے چپکے ہوئے بت کیوں لرزاں ہیں
کس ذات کی آمد ہے لوگو کیوں قیصر و کسریٰ ترساں ہیں



کسریٰ کے محل کے وہ کنگرے کس واسطے یوں یک لخت گرے
قیصر کی خداوندی کے بھلا کیوں تاج گرے تخت گرے



کیوں رات نے کاجل زلفوں کوخود اپنے رخ پہ لپیٹا ہے
پوچھو تو بھلا اندھیاروں نے کیوں کاروبار سمیٹا ہے



ظلمت کے ستم گر سینے سے کیوں نور سحر کا پھوٹا ہے
کس نام کے صدقے میں لوگو یہ رات کا جوبن ٹوٹا ہے



کس واسطے ان شب زاروں سے وہ درد کے مارے روٹھ گئے
بیتاب فلک کے آنگن سے رخشندہ ستارے روٹھ گئے



کیوں مردہ ضمیروں کی نبضیں رک رک کے اچانک تیز ہوئیں
انوارِ سحر کی سب کرنیں کیوں آکے تقدس ریز ہوئیں



یہ جبرِ خزاں کا آخر کیوں بے رحم سا جا دو ٹوٹا ہے
کس واسطے اب گلزاروں کا پت جھڑسے پیچھا چھوٹا ہے



کس نام سے ان شب زاروں میں خوش بخت سویرے بکھرے ہیں
پوچھو تو ذرا اجیاروں سے کیوں رنگِ جمالی نکھرے ہیں



کیوں اپنی زندہ بچی کو دفنا کر کوئی کانپا ہے۔!
کیوں اس نے ظالم ہاتھوں سے خود اپنے رخ کو ڈھانپا ہے



کس واسطے اب تاریخ بھلا تقدیر سے جھگڑے چھوڑ چلی
ٹھکرا کے درندوں کی وحشت انسان سے رشتے جوڑ چلی!



وہ کون ہے جس نے آدم کو اس بار نیا انسان دیا۔!
کس ذات نے آکر ہستی کا یہ جسم شکستہ تھام لیا



کیوں وحشتِ شب کے ماتھے پر اب داغ ندامت والے ہیں
کیوں رات کے ویراں لمحے نے دلِ دار سویرے پالے ہیں



کیوں عظمتِ انساں جا گی ہے اس عہد کی تیرہ راہوں میں
کس ظلم کے چرچے ہیں لوگو ہل چل سی مچی ہے شاہوں میں



سادہ کے معاہد کی یکدم کیوں آگ بجھی ہے اے لوگو۔!
کیوں پیار کے میٹھے بولوں کی اب گونج اٹھی ہے اے لوگو



مدقوق زمیں کے چہرے پر شاداب سی اب رعنائی ہے
اعجازِ خیال خالق کی تخلیق زمیں پر آئی ہے



وہ آیا جس کی راہوں پر تاریخ کی پلکیں بکھری ہیں
وہ آیا جس کی آمد سے اللہ کی سوچیں نکھری ہیں