سمیٹتے ہیں عبث سنگ و خشت فرزانے

Posted in آفاق نما

 


سمیٹتے ہیں عبث سنگ و خشت فرزانے
کہ شہر ہوش سے جا بھی چکے ہیں دیوانے



ہوا ئے دہر نے دل کا چمن اجاڑا ہے
مرے کریم ہوں آباد پھر سے ویرانے



تمہاری یاد کی خوشبو وجود میں مہکی
مری نگاہ نے دیکھے وہ خواب انجانے



مشاہدے پہ غلط ہے یقین کی بنیاد
کہونظر سے کہ دل کا مزاج پہچانے



پٹک رہی ہے سر اپنا گماں کی سرحدپر
خرد لگی تھی ذرا زلفِ یار سلجھانے