کمالِ ارتقاء

Posted in آفاق نما

 

کمالِ ارتقاء



نیا زمانہ نئے صبح و شام اب کیسے
وہی ہے شام وہی صبح کی ہے تنویریں



وہی ہیں لوگ وہی عہد کی ہیں تقدیریں
وہی ہے سوچ وہی ہیں ذہن کی تحریریں



ہماری سوچ زمانے بدل نہیں سکتی!
فقط دماغ بدلتا ہے کینچلی اپنی



ہمارا ذہن فقط خول ہی بدلتا ہے
وہ اور تھا کہ زمانے کو جس نے بدلا ہے




وہ سیل وقت کے دھارے کو جس نے روکا ہے
وہ جس نے خاک کو سورج کا حسن بخشا ہے



وہ ایک ذات ہی تکمیلِ ارتقاء ٹھہری
اسی کا فیض نئے صبح و شام بخشے گا