سبز روضے سے بس لپٹ آئیں

Posted in آفاق نما

 

سبز روضے سے بس لپٹ آئیں
پھر نقابِ اجل الٹ آئیں



رنگ جتنے بھی تتلیوں کے ہیں
میری نعتوں میں سب سمٹ آئیں



شرمساری میں روح نکلے گی
تیرے لمحے اگر پلٹ آئیں



آؤآقا کے نقشِ پا ڈھونڈیں
خاک طیبہ سے آؤ اٹ آئیں



تیری سورج نواز رحمت سے
لوگ صبحوں کی فصل کٹ آئیں



دردِاسمِ جمیل کرکر کے
وقت کے کرب سے نمٹ آئیں