ہے یاس کا صحرا اور میں ہوں تم آس کے دیپ جلا جانا

Posted in آفاق نما

 

ہے یاس کا صحرا اور میں ہوں تم آس کے دیپ جلا جانا
ہے لاج تمہیں اے ابرِ کرم دو قطرے تو برسا جانا


باطل کی یہ وحشت سامانی مرغوب کرے حق بازوں کو
یہ رسم نہیں پروانوں کی یوں شعلوں سے گھبرا جانا


مقصود نہیں ہے عیش وطرب ہلکا سا تموج کا فی ہے
ہے شوق یہی دیوانوں کو کچھ پی کے ذرا لہرا جانا


منجدھا ر ہے اور طوفان بلا ساحل کا تصور ڈوب چلا
بس آس تمہاری ہے آقاؐ اب نیا پار لگا جانا


ہر بے بس کی فریاد رسی ہر بے کس دل کی چارہ گری
تائید محمد صلِ علےٰ وہ ریت ذرا دھرا جانا