خموش بستی کو جا نے والو!یہ عشقِ احمدؐ کا داغ لے لو

Posted in آفاق نما

 

خموش بستی کو جا نے والو!یہ عشقِ احمدؐ کا داغ لے لو
مسافتوں کا ہے دشتِ ویراں، ہے رات اندھی چراغ لے لو


گلاب آنکھوں میں اب ہے اترا بشارتوں کا یہی صحیفہ
تم آبِ کوثر کے میٹھے ساقی سے آکے اپنا ایا ع لے لو


فضول فکرو نظر کی کا وش !کبھی حقائق نہ کھل سکیں گے
فراستوں کی یہ سوچ دے کر عقیدتوں کا دماغ لے لو


حسین نعتوں کے سبز پھولوں کا ایک گلشن جوان کر دو
شباب یادوں کے سارے رشتوں کو زہر دے کر فراغ لے لو


خزاں رسیدہ چمن میں کیشے پھر بہاروں کا رقص جا گے
جو سبز گنبد کی رفعتوں سے نئی رتوں کا سراغ لے لو