فرقت میں جو بھی لمحہ گزرتا چلا گیا

Posted in آفاق نما

 


فرقت میں جو بھی لمحہ گزرتا چلا گیا
نشتر سا قلب و جاں میں اترتا چلا گیا


یہ اعتما د تھا کہ سمیٹے گا ایک شخص
میں اس لئے فضا میں بکھرتا چلا گیا


یادِ حبیب سے رہے تاباں تخیلا ت
یوں چہرۂ حیات سنورتا چلا گیا


ہے روح و جانِ گلشن ہستی وہ ایک نام
میرے جنوں میں رنگ جو بھرتا چلا گیا


غم ہا ئے ہجر یار نے بخشیں بصیرتیں۱
میں اشک اشک ہو کے نکھرتا چلا گیا


نا کا میوں کے زخم کی آنکھیں کھلی ہیں
خوش کا میوں کا جو ش ابھرتا چلا گیا