لاکھ کعبوں سے ہم گزر آئے

Posted in آفاق نما

 

لاکھ کعبوں سے ہم گزر آئے
اب تو ان کی گلی نظر آئے


قلب مومن مثالِ طیبہ ہے
جس میں مولا کی یاد در آئے


اے بصارت سمیٹ لے ان کو
جن منا ظر سے ہم گزر آئے


تیری گلیوں کو آنکھ کے بوسے
رکھ کے پیروں پہ اپنا سر آئے


اپنی چوکھٹ پہ اب جگہ دے دے
رب کو سجدے ہزار کر آئے


دارپر دیر سے ہے ویرانی
کاش منصور پھر ادھر آئے