صبا طیبہ سے آتی ہے تو کوئی یادآتا ہے

Posted in آفاق نما

 

صبا طیبہ سے آتی ہے تو کوئی یادآتا ہے
سحر جب مسکراتی ہے تو کوئی یادآتا ہے


کبھی ساون کے میٹھے انتظار انگیز لمحوں میں
ہوا ہولے سے گاتی ہے تو کوئی یادآتا ہے


کبھی گرداب جاں کے تند خو سرشار دھاروں میں
جو نیا ڈگمگاتی ہے تو کوئی یادآتا ہے


جوانی کی بلکتی چیختی غمگین راتوں سے
سحر جب روٹھ جاتی ہے تو کوئی یادآتا ہے


مجھے جب ظلمت ایام کی پر ہول ویرانی۔!
اکیلے میں ڈراتی ہے تو کوئی یادآتا ہے