سب دریچے کرم کے جو واہو گئے

Posted in آفاق نما

 

 سب دریچے کرم کے جو واہو گئے
بھیگی پلکوں پہ کتنا نکھار آگیا


میلی میلی چٹانیں ہری ہو گئیں
جلتی شا خوں پہ رقصِ بہار آگیا


آہ! کس کو خبر ہے جہانِ وفا
میرے آقاؐ کے اسم گرامی سے ہے


یہ مناظر کی میٹھی حسیں دل کشی !
بس اسی آستاں کی غلامی سے ہے


اس قدر بات تیری تو رنگیں نہیں
جس قدر ناز تجھ کو ترانے پہ ہے


بس یہ توصیفِ اقدس کی ہے چاشنی
اور طیبہ کو آنکھیں لگانے پہ ہے