مٹی ذرا سی قریۂ لولاک کے عوض

Posted in دیوان منصور

مٹی ذرا سی قریۂ لولاک کے عوض
دو گز زمین چاہئے افلاک کے عوض

جاگیر بھی حویلی بھی چاہت بھی جسم بھی
تم مانگتے ہو دامن ء صد چاک کے عوض

اِس شہر میں تو ایک خریدار بھی نہیں
سورج کہاں فروخت کروں خاک کے عوض

وہ پیٹ برگزیدہ ہیں میری نگاہ میں
جو بیچتے ہیں عزتیں خوراک کے عوض

مثلِ غبار پھرتا ہوں آنکھوں میں جھانکتا
اپنے بدن کی اڑتی ہوئی راکھ کے عوض

دے سکتا ہوں تمام سمندر شراب کے
اک جوش سے نکلتے ہوئے کاک کے عوض

بھونچال آئے تو کوئی دو روٹیاں نہ دے
میلوں تلک پڑی ہوئی املاک کے عوض

غالب کا ہم پیالہ نہیں ہوں ، نہیں نہیں
جنت کہاں ملے خس و خاشاک کے عوض

ہر روز بھیجنا مجھے پڑتا ہے ایک خط
پچھلے برس کی آئی ہوئی ڈاک کے عوض

جاں مانگ لی ہے مجھ سے سرِاشتیاقِ لمس
بندِ قبا نے سینہ ء بیباک کے عوض

کام آ گئی ہیں بزم میں غم کی نمائشیں
وعدہ ملا ہے دیدہ ء نمناک کے عوض

آیا عجب ہے مرحلہ شوقِ شکار میں
نخچیر مانگتا ہے وہ فتراک کے عوض

نظارۂ جمال ملا ہے تمام تر
تصویر میں تنی ہوئی پوشاک کے عوض

منصور ایک چہرۂ معشوق رہ گیا
پہنچا کہاں نہیں ہوں میں ادراک کے عوض