آنسوؤں کے عکس دیواروں پہ بکھرانا غلط

Posted in دیوان منصور

آنسوؤں کے عکس دیواروں پہ بکھرانا غلط
یہ دیے بے فائدہ یہ آئنہ خانہ غلط

وہ پرندوں کے پروں سے نرم ، بادل سے لطیف
یہ چراغِ طور کے جلووں سے سنولانا غلط

جاگ پڑتے ہیں دریچے اور بھی کچھ چاپ سے
اس گلی میں رات کے پچھلے پہر جانا غلط

درد کے آتش فشاں تھم ، کانپتی ہیں دھڑکنیں
یہ مسلسل دل کے کہساروں کا پگھلانا غلط

کون واشنگٹن کو دے گا ایک شاعر کا پیام
قیدیوں کو بے وجہ پنجروں میں تڑپانا غلط

ان دنوں غم ہائے جاناںسے مجھے فرصت نہیں
اے غمِ دوراں ترا فی الحال افسانہ غلط

ایک دل اور ہر قدم پر لاکھ پیمانِ وفا
اپنے ماتھے کو ہر اک پتھرسے ٹکرانا غلط

ایک تجریدی تصور ہے یہ ساری کائنات
ایسے الجھے مسئلے بے کار۔ سلجھانا غلط

وقت کا صدیوں پرانا فلسفہ بالکل درست
یہ لب و عارض غلط ،یہ جام و پیمانہ غلط

کیا بگڑتا اوڑھ لیتا جو کسی تتلی کی شال
شاخ پر کھلنے سے پہلے پھول مرجھانا غلط

کچھ بھروسہ ہی نہیں کالے سمندر پر مجھے
چاند کا بہتی ہوئی کشتی میں کاشانہ غلط

زندگی کیا ہے۔ ٹریفک کا مسلسل اژدھام
اس سڑک پر سست رفتاری کا جرمانہ غلط

جس کے ہونے اور نہ ہونے کی کہانی ایک ہے
اُس طلسماتی فضا سے دل کوبہلانا غلط

منہ اندھیرے چن کے باغیچے سے کچھ نرگس کے پھول
یار بے پروا کے دروازے پہ دھر آنا غلط

پھر کسی بے فیض سے کر لی توقع فیض کی
پھر کسی کو ایسا لگتا ہے کہ پہچانا غلط

زندگی جس کیلئے میں نے لگا دی دائو پر
وہ تعلق واہمہ تھا ، وہ تھا یارانہ غلط

میں انالحق کہہ رہا ہوں اور خود منصور ہوں
مجھ سے اہل معرفت کو بات سمجھانا غلط