بدن کے قفل چٹختے تھے اسم ایسا تھا

Posted in دیوان منصور

{mp3}ma_dn_26{/mp3}


 

بدن کے قفل چٹختے تھے اسم ایسا تھا

نگار خانہء جاں کا طلسم ایسا تھا

 

دہکتے ہونٹ اسے چھونے کو مچلتے تھے

سیہ شرابوں کی جیسی ہے قسم ایسا تھا

 

جگہ جگہ پہ دراڑیں تھیں ندی نالے تھے

 کچھ اپنی آنکھ سے پانی کا رِسم ایسا تھا

 

کسی کا پاؤں اٹھا رہ گیا کسی کا ہاتھ

تمام شہر تھا ساکت ، طلسم ایسا تھا

 

رکا تھا وقت کا ناقوس بھی تحیر سے

بریدِ چاک سے مٹی کا بسم ایسا تھا

 

یہی ملال ہے  شیشہ تھا درمیاں منصور

چراغ ہوتا ہے جیسے وہ جسم ایسا تھا