اسے بھی ربط ِ رہائش تمام کرنا تھا

Posted in دیوان منصور

 {mp3}ma_usay{/mp3}


 

 اسے بھی ربط ِ رہائش تمام کرنا تھا

مجھے بھی اپنا کوئی انتظام کرنا تھا

 

نگار خانے سے اس نے بھی رنگ لینے تھے

مجھے بھی شام کا کچھ اہتمام کر نا تھا

 

بس ایک لنچ ہی ممکن تھا جلدی جلدی میں

اسے بھی جانا تھا میں نے بھی کام کرنا تھا

 

یہ کیا کہ چلتا چلا جا رہا ہوں گلیوں میں

کہیں تو غم کا مجھے اختتام کرنا تھا

 

بس ایک رات بھی گزری نہیں وہاں منصور

تمام عمر جہاں پر قیام کرنا تھا

 

جس دوست جہاں کے بعد ’’پر‘‘ کے استعمال اعتراض ہو وہ مصرعہ یوں پڑھ لیں۔۔۔)

(جہاں جہاں مجھے برسوں قیام کرنا تھا