یہ الگ اس مرتبہ بھی پشت پر خنجر لگا

Posted in دیوان منصور

 {mp3}ma_dn_27{/mp3}


 

یہ الگ اس مرتبہ بھی پشت پر خنجر لگا

یہ الگ پھر زخم پچھلے زخم کے اندر لگا

 

مجھ سے لپٹی جا رہی ہے بیل جیسی کوئی شام

یاد کے برسوں پرانے پیڑ کو کینسر لگا

 

موت کی ٹھنڈی گلی سے بھاگ کر آیا ہوں میں

کھڑکیوں کو بند کر ، جلدی سے اور ہیٹر لگا

 

بند کر دے روشنی کا آخری امکان بھی

روزنِ دیوار کو مٹی سے بھر ، پتھر لگا

 

ایک لمحے کی عبادت کیا بلندی دے گئی

جیسے ہی سجدے سے اٹھا ، آسماں سے سر لگا

 

پھیر مردہ بالوں میں اب اپنی نازک انگلیاں

یہ ملائم ہاتھ میرے سرد چہرے پر لگا

 

ہجر ہے برداشت سے باہر تو بہتر ہے یہی

چل کے کوئے یار کے فٹ پاتھ پر بستر لگا

 

لگ رہا ہے غم ، اداسی کھل رہی ہے شاخ شاخ

باغِ ہجراں کو نہ اتنا آبِ چشمِ تر لگا

 

اتنے ویراں شاٹ میں تتلی کہاں سے آئے گی

پھول کی تصویر کے پیچھے کوئی منظر لگا

 

یہ اچانک کوئے جاناں سے بلاوایہ وصال

آج دن ہے ، لاٹری کے آج چل نمبر لگا