پابجولاں کیا مرا سورج گیا تھا

Posted in دیوان منصور

 {mp3}ma_dn_99{/mp3}  


 

پابجولاں کیا مرا سورج گیا تھا

صبح کے ماتھے پہ آ کر سج گیا تھا

 

وہ بھی تھی لپٹی ہوئی کچھ واہموں میں

رات کا پھر ایک بھی تو بج گیا تھا

 

کوئی آیا تھا مجھے ملنے ملانے

شہر اپنے آپ ہی سج دھج گیا تھا

 

پہلے پہلے لوٹ جاتا تھا گلی سے

رفتہ رفتہ بانکپن کا کج گیا تھا

 

مکہ کی ویران گلیاں ہو گئی تھیں

کربلا کیا موسم ِ ذوالحج گیا تھا

 

تُو اسے بھی چھوڑ آیا ہے اسے بھی

تیری خاطر وہ جو مذہب تج گیا تھا

 

راستے سے کیسے اٹھ سکتا ہوں میں

وہ مجھے دے کر بڑی دھیرج گیا تھا

 

کتنی آوازوں کے رستوں سے گزر کر

گیت نیلی بار سے ستلج گیا تھا

 

پائوں بڑھ بڑھ چومتے تھے اڑتے پتے

تازہ تازہ باغ میں اسوج گیا تھا

 

وہ جہاں چاہے کرے منتج ، گیا تھا

رات کی محفل میں کل سورج گیا تھا