زندہ ہوں پر زندگانی ختم شد

Posted in دیوان منصور

  

 

 

زندہ ہوں پر زندگانی ختم شد

فلم جاری ہے کہانی ختم شد

 

رو لیا ہے جتنا رو سکتا تھا میں

آنکھ میں جو تھا وہ پانی ختم شد

 

کر رہاہوں شام سے فکرِ سخن

یعنی عہدِ رائیگانی ختم شد

 

میں بھی ہوں موجود اب افلاک پر

لامکاں کی لامکانی ختم شد

 

رک گیا میں بھی کنارہ دیکھ کر

پانیوں کی بھی روانی ختم شد

 

پیچھے چھوڑ آیا ہوں شورِ ناتمام

گاڑیوں کی سرگرانی ختم شد

 

اور باقی ہیں مگر آسیب کی

اک بلائے ناگہانی ختم شد

 

آنے سے پہلے بتاتی ہیں مجھے

بارشوں کی بے زبانی ختم شد

 

دیکھتے ہیں آسماں کے کیمرے

اب گلی کی پاسبانی ختم شد

 

آگئے جب تم تو کیا پھر رہ گیا

جو تھا سوچا جو ہے ٹھانی ختم شد

 

بھیج غالب آتشِ دوزخ مجھے

سوزِ غم ہائے نہانی ختم شد

 
زندہ ہوں پر زندگانی ختم شد
فلم جاری ہے کہانی ختم شد
 
رو لیا ہے جتنا رو سکتا تھا میں
آنکھ میں جو تھا وہ پانی ختم شد
 
کر رہاہوں شام سے فکرِ سخن
یعنی عہدِ رائیگانی ختم شد
 
میں بھی ہوں موجود اب افلاک پر
لامکاں کی لامکانی ختم شد
 
رک گیا میں بھی کنارہ دیکھ کر
پانیوں کی بھی روانی ختم شد
 
پیچھے چھوڑ آیا ہوں شورِ ناتمام
گاڑیوں کی سرگرانی ختم شد
 
اور باقی ہیں مگر آسیب کی
اک بلائے ناگہانی ختم شد
 
آنے سے پہلے بتاتی ہیں مجھے
بارشوں کی بے زبانی ختم شد
 
دیکھتے ہیں آسماں کے کیمرے
اب گلی کی پاسبانی ختم شد
 
آگئے جب تم تو کیا پھر رہ گیا
جو تھا سوچا جو ہے ٹھانی ختم شد
 
بھیج غالب آتشِ دوزخ مجھے
سوزِ غم ہائے نہانی ختم شد